صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو اور وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے ممبر صوبائی اسمبلی لالہ رشید دشتی کے ہمراہ سرکٹ ہاوس تربت میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا

0

گزشتہ روز صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو اور وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے ممبر صوبائی اسمبلی لالہ رشید دشتی کے ہمراہ سرکٹ ہاوس تربت میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔اس دوران وہاں پر کمشنر مکران طارق قمر بلوچ، ڈپٹی کمشنر کیچ الیاس کبزء، ڈی پی او کیچ نجیب پنندرانی اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد چند دنوں پہلے تربت میں ڈھنک کے مقام پر ڈکیتی کا ایک دلخراش واقعہ ہوا جسمیں ایک خاتون جان بحق اور اسکی بچی زخمی ہوءتھی کےحوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر جراہم پیشہ افراد کے خلاف ایک منظم کاروائی کرنا ہے تاکہ تربت میں جراہم پیشہ عناصر کا مکمل قلع قمع کیا جاسکے۔ اس دوران انہوں نے ضلعی پولیس اہلکاروں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے اس واقعے میں مطلوب شریک ملزم اور اسکے سہولت کار کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ میں امن و امان کا قیام ہماری حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور اس سانحہ میں گرفتار عناصر کو عبرت ناک سزا دیا جاہیگا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی سماج دشمن عناصر اس طرح کے گنائنے جرم سے باز آجائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کے احکامات کی روشنی میں میں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہوں اور اس حوالے س تحقیقات کا داہرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے تاکہ اس گروہ میں ملوث دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھی گیرہ تنگ کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا واقعہ نہ صرف ہمارے بلوچی روایات کے خلاف ہے بلکہ دین اسلام میں بھی اس کےلیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان وحشی جرائم پیشہ عناصر کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قومیت۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے اور ان قاتلوں کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے قرار واقعی سزا دلوائیں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے اس دلخراش واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ کی وجہ سے ہم سب غمزدہ ہیں اور اس حوالے سے پوری قوم کی ہمدردیاں آپکے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ کہ یہ واقعہ ہمارے قبائلی روایات اور انسانی ضمیر اور جذبات کے بالکل برعکس ہیں انہوں نے کہا عوام کے جان و مال کی حفاظت ہماری حکومت کے فرائض میں اہم ترین ہیں اور اس حوالے سے پولیس اور انتظامیہ نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے اہم گرفتاریاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم انکو اپنا کام کرنے دیں اور تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کریں اگر اس حوالے سے حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کوئی اعتراض یا کوتاہی ہو تو ہمیں فورا مطلع کیا جائے تاکہ ہم انکی بروقت درستگی کریں۔اس دوران انہوں نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو پوائنٹ سکورنگ سے باز آنا چاہیے اور لاشوں کی سیاست سے گریز کرنا چاہئے انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت واقعہ میں شہید خاتوں کو سرکاری سطح پر شہید کا درجہ دیگی اور واقعہ میں زخمی بچی کو بہتریں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاہیں گی۔ قبل ازیں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو اور وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے ممبر صوبائی اسمبلی لالہ رشید دشتی کے ہمراہ ڈھنک تربت کا دورہ کیا اور انہوں نے وہاں پر موجود شہید خاتوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔بعد ازاں صوبائی وزراءنے ایف سی کیمپ تربت میں میجر جنرل سرفراز علی کی صدارت میں لا اینڈ آرڈر کے حوالے سے ایک میٹنگ میں بھی شرکت کی۔اس اجلاس میں سول اور عسکری اداروں کے اہلکاروں نے دہشتگردی کے خلاف ملکر کام کرنے کے بارے میں عکمت عملی تشکیل دیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.