آزادکشمیر ، گھریلو مزدور استحصال کا شکار،متعلقہ محکموں میں ملازمین کی بھرمار قانون نافذ نہ رجسٹریشن نہ ڈیٹا تیار

0

تحریر: ظفر مغل
ریاست جموں وکشمیر کے آزاد علاقہ آزادکشمیر کی وادی جنت نظیر ، وادی نیلم کی رہائشی آمنہ بی بی کاکہنا ہے کہ میرا شوہر لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال گولہ باری سے شہید ہو گیا تھا اور بچوں کی پڑھائی اور گھر کا چولہا جلانے کیلئے خود داری کے باعث کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے کشمیری لباس فیرن، کشمیری شال ، کشمیری جائے نماز ، کشمیری شولڈر بیگ ، ٹیبل کور، ٹکوزی ، ٹیبل میٹ ، کپ ہولڈر ، ہاٹ پاٹ ، کشمیری سٹالر اور ہینڈی کرافٹس کی مصنوعات دکانداروں کی ڈیمانڈ کے مطابق بنا کر حاصل ہو نیوالی مزدوری سے اپنے گھر کا خرچہ اٹھا رکھا ہے چونکہ مظفرآباد میں بڑی مارکیٹ اور ہماری بنائی ہوئی کشمیری مصنوعات کی مانگ اور معاوضہ بھی زائد ہے مگر غربت اور سرمائے کی عدم دستیابی باعث بڑی مارکیٹ تک رسائی ممکن نہیں اور ہمیں مجبوراً مقامی دکانداروں کے فراہم کردہ میٹریل اور ڈیمانڈ کے مطابق ہی مصنوعات بنا کر محض کم مزدوری پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے ۔ مظفرآباد کے مضافاتی گاں کی رہائشی ہوم بیسڈورکر سکینہ بی بی کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر میں ہم غریب و مجبور گھریلو مزدوروں کیلئے کوئی قانون یارجسٹریشن وغیرہ نہیں ہے اورمجھ جیسی دیہی خواتین مجبوری میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور انہیں پڑھا کر معاشرے کا مفید شہری بنانے کے خواب کے تحت سلائی ، کڑھائی اور کشمیری لباس و شالیں اور دیگر گفٹ آیٹمز بنانے کی گھریلو مزدوری کا کام انتہائی کم انراخ پر کرتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں گفٹ آیٹمز کے طور پر بنا کر محکمہ سماجی بہبود و ترقی نسواں کے سیل سنٹر اور مقامی سطح پر دکانداروں کو بھی کم قیمت پر فروخت کر کے اپنے گھریلو ضروری اخراجات بمشکل پورے کرتی ہیں۔ حکومت ہمیں قرض حسنہ یاکم سے کم آسان شرائط پر قرض فراہم کرے تو ہم خواتین معاشی ترقی میں بہتر سے بہتر کردار ادا کر سکتی ہیں جبکہ موجودہ صورتحال میں ہمیں جو مزدوری ملتی ہے وہ ”اونٹ کے منہ میں زیرہ“ کے برابر ہوتی ہے اور ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا بھی کرنے کے ساتھ دن رات مزدوری کا وہ معاوضہ بھی نہیں ملتا جو ایک عام مزدور کیلئے حکومت نے طے کر رکھا ہے ۔
میرپور کی رہائشی فہمیدہ بی بی جو کروشیا کی مصنوعات بنانے کی ماہر ہیں نے بتایا کہ گو ہمیں اپنی مصنوعات کی مزدوری کم ملتی ہے مگر مارکیٹ میں یہ مصنوعات گفٹ آیٹمز کے طور پر مہنگی فروخت ہوتی ہیں اور مڈل مین ،سرمایہ دار دکاندار ہی اصل فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم دن رات محنت و مزدوری کر کے بھی اپنا اور بچوں کا بمشکل گزارہ کرتے ہیں یعنی کہ ہمیں ”آٹے میں نمک“ کے برابر مزدوری ملتی ہے کیونکہ آزادکشمیر میں گھریلو مزدوروں کیلئے اب تک وعدوں کے باوجود محکمہ اور حکومت کوئی قانون سازی اور رجسٹریشن تک نہیں کر سکی اور نہ ہی اب تک مشکل گھڑی میں یعنی کرونا وائرس اور لاک ڈان میں بھی ہمیں کسی کھاتے میں نہیں رکھا گیا جو ایک المیہ ہے۔ اخروٹ کی لکڑی سے گفٹ آیٹمز ٹرے سیٹ ، دیواروں پر لگانے کیلئے قرآنی آیات کے فریم ، پیپرویٹ ، گلدان، ایش ٹرے ، اور دیگر ڈیکوریشن آیٹمزبنانے کے ماہر آفتاب احمد نے کہا کہ وہ اپنی معذوری کا باعث گھر میں ہی بیٹھ کر اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے اور گھر کا چولہا جلانے کیلئے اخروٹ کی لکڑی پر نقش و نگاری کے ذریعے گفٹ آیٹم بنانے کی مزدوری کرتے ہوئے دکانداروںکی طرف سے مہیا کردہ اخروٹ کی لکڑی کی مصنوعات بناتا ہے چونکہ وہ اپنی ٹانگ کی معذوری کے باعث بڑی مارکیٹوں میں جانے اور قیمتی اخروٹ کی لکڑی وافر خریدنے کا غربت باعث متحمل نہیں اس لئے صرف کم مزدوری ہی سے گزراوقات مجبوری سے کرنا پڑتی ہے لیکن حکومت کو چاہئے کہ وہ ہوم بیسڈور کرز طبقے کا بھی خیال کرے جو بھیک مانگنے اور حکومت پر بوجھ بننے کی بجائے اپنی محنت و مزدوری سے ملکی معیشت میں اپنا بھرپور کردارادا کر رہے ہیں ۔


آزادکشمیر یونیورسٹی کے ہوم اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میرپور کی سابق ڈین پروفیسر نوشابہ الیاس نے بتایا کہ آزادکشمیر میں ٹیلنٹ کی ہرگز کمی نہیں ہے اور آزادخطہ میں کوئی گاں ایسا نہیں جہاں ہوم بیسڈورکرز نہ ہوں مجھے بیشتر علاقوں میں جانے اور ان علاقوں کی طالبات کوپڑھانے کا موقع ملا ہے کشمیری خواتین میں بے انتہا ٹیلنٹ ہے جسے کسی دائرے میں لا کر شناخت کرنے اور سہولیات فراہمی کی اشدضرورت ہے ہوم بیسڈورکرز کی طرف سے کشمیری شالوں ، سٹالر ، فیرن اور دیگر مصنوعات کے علاوہ اخروٹ کی لکڑی پر نقش و نگار ، گفٹ آیٹمز اور قرآنی آیات پر مبنی فریم دنیا بھر میں مشہور ہیں اور آنے والے سیاح بھی ان آیٹمز کو یادگاری تحائف کے طور پر خریدکر لے جاتے ہیں لیکن ان خوبصورت گفٹ آیٹمز کے بنانے والے ہوم بیسڈورکرز کو بہت کم اجرت میں محنت کا معاوضہ ملتا ہے مگر حکومت کو قانون سازی سے ایک مثبت پالیسی وضع کر کے اس مظلوم طبقے کو بھی ملکی معیشت میں بھرپور کردار ادا کرنے کے قابل بنانا چاہئے اور آجرو اجیر کے درمیان خوشگوار ماحول میں رجسٹریشن اور معاہدہ نامہ کی شرائط سمیت انہیں اولڈ ایچ بینیفٹ کی طرز پر عمر رسیدہ ،معذوری، فوتگی اور بچوں کی شادیوں کیلئے بھی حکومتی امداد کی پالیسی وضح کرنی چاہئے اور گلوبل ویلج میں ہوم بیسڈور کرز کو داخل کر کے کمپیوٹر کی جدید تعلیم سے استفادہ کروا کر ان کے کام میں جدت کی طرف آگے بڑھانے میں مدد کرنی چاہئے تاکہ وہ بڑی مارکیٹوں کے علاوہ بیرون ملک بھی اپنی مارکیٹ رسائی کو بڑھا کر ملکی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں اپنا کلیدی کرداردا کر سکیں ۔
پاکستان میں عام طور پر یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ گھروں میں مقیم مزدوروں کو انتہائی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی زیادہ تر دیہی علاقوں میں مقیم گھریلو مزدور بلخصوص خواتین ورکرز زیادہ تر مسائل و مشکلات کا شکار ہیں ۔کیونکہ انہیں ایک ہی کام کے لئے اپنے مرد ہم منصبوں کے برابر اجرت بھی نہیں ملتی ہے۔ جس کی تصدیق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی ایک رپورٹ سے بھی ہوتی ہے جس کے مطابق صنف کی بنیاد پر اجرت میں فرق اور تشدد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ خواتین کارکنوں کو اسی کام کے لئے مرد کارکنوں کی اجرت سے 34 فیصدکم اجرت ملتی ہے۔ گلوبل ویج رپورٹ برائے 2018-19ءکے مطابق ، پاکستان میں 90فیصد سب سے کم معاوضہ لینے والی گھریلو مزدور خواتین کارکن ہی ہیں۔ ورلڈاکنامک فورم دسمبر2019ءکی رپورٹ کے مطابق اگر اصلاحی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ہیں تو ، اجرت کی برابری لانے میں 100 سال اور پاکستان میں صنفی مساوات لانے میں 200 سال لگیں گے۔پاکستان میں 11.6 ملین یا اس سے زیادہ خواتین گھروں میں مقیم خواتین اس کی غیر رسمی ورک فورس کا ایک بہت بڑا حصہ بناتی ہیںاور ان خواتین کو بہت سارے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جن کی جڑیں صنفی امتیاز کی وجہ سے ہیں۔ تعلیم اور مہارت کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد ہوتی ہے۔ وسائل اور اثاثوں کی کم رسائی ، یا ملکیت ، یا کریڈٹ اور معاشرتی خدمات تک رسائی ، ایسی خواتین کو پیش قدمی کرنے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں۔ دریں اثنا ، گھر اور عوامی دائرے میں – فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت کا فقدان پورے ملک میں اپنی کم معاشرتی اور معاشی حیثیت کو محفوظ بناتا ہے۔پاکستان میں خواتین گھروں میں مقیم خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے اپنے کام کے ایک حصے کے طور پر ، یو این ویمن باقاعدہ اور مہذب روزگار میں جانے میں ان کی مدد کر رہی ہے۔ اس کے پروگراموں سے خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں شعور اجاگر ہوتا ہے ، مثلاً( Healthy) صحت مند ، محفوظ اور بہتر کام کرنے کی صورتحال جیسے آزاد ٹرانسپورٹ ، علیحدہ آرام گاہ اور واش رومز ، نیز مساوی اجرتیں اور یونینوں میں شامل ہونے کا حق اور اجتماعی طور پر سودے بازی۔ اس سے بہت ساری خواتین کو رجسٹریشن ، افرادی قوت میں زیادہ سے زیادہ پہچان اور تحفظ کے لئے بہتر لابی کی اجازت دی گئی ہے۔
پاکستان وآزادکشمیرمیں گھریلو خواتین کی 80فیصد خواتین ، اپنی حیثیت کو تسلیم کرانے میں 10 سال کا عرصہ لے چکی ہیں۔ ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ مزدوروں کو حقوق نہ دے کر معاشی نمو حاصل کریں گے ، لیکن معاشرتی انصاف کے بغیر معاشی نمو ممکن نہیں ہے۔ پاکستان پہلے ہی آئی ایل او کنونشن 36 کی توثیق کرچکا ہے اور جی ایس پی پلس کو بھی قبول کرچکا ہے۔ اب وہ بنگلہ دیش معاہدے کی طرز پر ایک ” پاکستان معاہدہ “ کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم ، اس ترقی کے باوجود ، گھر پر کام کرنے والے مزدوروں کے حق حقوق ابھی تک ایک دور کا خواب ہے۔ بڑھتی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خواتین گھروں میں رہنے والی مزدوروں کا معاشی طور پر زندہ رہنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔جس سے کئی معاشرتی مسائل بڑھنے کی اطلاعات عام ہو رہی ہیں مگر حکومت ، متعلقہ اداروں اور این جی اوز کی توجہ اس جانب نظر نہیں آ رہی ہے۔ہوم بیسڈوومین ورکرز فیڈریشن(HBWWF) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ، 80 فیصد سے زیادہ کارکن غیر رسمی شعبے میں ملازمت کر رہے ہیں۔ان میں سے اکثریت خواتین اور ان کے بچے عموماً ٹکڑوں کی شرح کے کارکنوں کے طور پر کام کرتی ہیں ، جن میں لباس ، چوڑی بنانے ، بوری سلائی ، قالین بنائی ، پیکنگ ، ہینگر بنانے ، سوتی بھرنے ، چھانٹنا ، کاٹنے ، زیورات ، جوتا بنانے ،فٹ بال سلائی ، جیسے شعبوں میں کام کیا جاتا ہے۔ملکی معیشت کی مضبوطی میں غیر رسمی شعبے کی شراکت بہت بڑی ہے ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت نے ان کارکنوں کی فلاح و بہبود کو نظرانداز کیا ہواہے جبکہ انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو( FBR)کی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔گھر پر کام کرنے والے غیر نظریاتی اور غیر منظم کام کی وجہ سے غیر محفوظ ہیں جو اکثر ناقص حالات جیسے بار بار اور مو¿ثر کام ، 14 سے 16 گھنٹے تک طویل تردورانیہ (شفٹ )اور کام کے لئے کم اجرت جیسے کاموں میں انجام دیئے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی مارکیٹ تک رسائی اور معلومات کا فقدان بھی ہے ، پیداواری زنجیر میں سب سے کم ہیں اور ثالثوں کے ذریعہ بھی انہیں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جو کام کے لئے تاخیر سے ادائیگی کرتے ہیں یا کچھ معاملات میں بالکل ادا ہی نہیں کرتے ہیں۔ ان کی سودے بازی کی طاقت اور تنظیمی صلاحیتیں بھی کمزور ہیں ، تاکہ خواتین کے خود کو بااختیار بنانے کے امکانات بھی کم ہوجائیں۔پاکستان میں پہلا قانون گھریلو کارکنوں کی کئی سال کی کوششوں کے بعد ، 29 مئی 2018 کو ، سندھ اسمبلی نے سندھ ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ ، 2018 منظور کیاگیا۔مگر اس پرتاحال عملدرآمد کا کوئی قابل ذکر پہلو سامنے نہیں آسکا ہے ۔ ہوم بیسڈ ورکرز کے مسائل کے تناظر اور آزادکشمیر میں ان کے تحفظ کے بارے میں دیکھاجائے تو آزادکشمیر میں سرے سے تاحال ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے حالانکہ آزادخطہ میں وزیر سماجی بہود و ترقی نسواں ، وزیر صنعت ، سمال انڈسٹریز ولیبر کے وزراءاور ان محکموں میں سیکرٹری کی سطح سے لے کر ضلعی سطح تک دفاتر میں ڈپٹی ڈائریکٹر سے نائب قاصد تک ملازمین کی ایک فوج ظفر موج بھی سرکار سے تنخواہ اور دیگر مراعات بھی وصول کر رہی ہے مگر آزادکشمیر کے 10 میں سے کسی بھی ضلع کے پاس ہوم بیسڈورکرز کی رجسٹریشن کا کوئی ریکارڈ یا پھر کسی بھی محکمہ کے پاس ان کا کوئی ڈیٹا موجود نہ ہے اس سلسلے میں محکمہ سماجی بہبود و ترقی نسواں میرپور کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شکیل نے بتایا کہ2007ءسے 2013ءکے دوران آزادجموںکشمیر میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام (AJKCDP) کے تحت مستحق خواتین کی ترقی اور بہبود کیلئے میرپور اور بھمبر کے اضلاع کے 60 مختلف دیہاتوں میں فی سنٹر30 کے حساب مجموعی طور پر1600 سے زائد خواتین کو سلائی کڑھائی کی تربیت دے کر انہیں ہنر مند بنانے اور اپنے پاں پر کھڑا کرنے کیلئے 3ماہ کے شارٹ کو رسز کروائے ہیں تاکہ وہ کسی کی دست نگر بننے کی بجائے اپنے روزگار کے قابل ہوکر وہ معاشرتی مسائل سے آزادہو سکیں اسی طرح آزادکشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی غریب ، نادار اور بیوگان کو ہنرمند بنانے میںبھی محکمہ سماجی بہبود نے شارٹ کورسز بابت سلائی کڑھائی کروائے ہیں جبکہ وویمن اکنامک پاورمنٹ سنٹر ز کے ذریعے بھی 2014ءسے 2017ءکے دوران میرپورو بھمبر میں ایک ہزار سے زائد مستحق خواتین کو باقاعدہ ریسورس پرسن تعینات کر کے 3,3ماہ کے محکمہ کی سلائی کڑھائی مشینوں اور کپڑا وسلائی کڑھائی سے متعلقہ سامان مہیا کر کے انہیں شارٹ کورسز کروا کر باقاعدہ سرٹیفکیٹ اوربنائے گئے ملبوسات بھی انہیں ہی بطور گفٹ دئیے گئے ہیں ۔تاکہ وہ انہیں فروخت کر کے اپنی گزر اوقات کر لیں یا پھر خود اور اپنے اہلخانہ کیلئے استعمال کرسکیں۔ اسی طرح اب ان تربیت یافتہ خواتین سے مارکیٹ کے مطابق معقول معاوضے پر کڑھائی و سلائی سے ریڈی میڈ کپڑے بنوا کر فروخت کئے جاتے ہیں ۔ آزاد کشمیر کی وزیر سماجی بہبود ، ترقی نسواں اور لیبر محترمہ نورین عارف کا کہنا ہے کہ آزادخطہ میں خواتین کی بہتری و بہبود کیلئے کم وسائل کے باوجود حکومت محکمہ کو فعال بنانے کیلئے متحرک ہے جبکہ ہوم بیسڈ کروز کیلئے سندھ کی طرز پر آزادکشمیر میں بھی باقاعدہ قانون نافذ کرنے کیلئے محکمہ قانون کی معاونت سے سماجی بہبود و ترقی نسواں و لبیر کی طرف سے عملی اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں ۔اور آئندہ مالی سال میں ہوم بیسڈورکرزکی فلاح و بہبود کیلئے بجٹ اجلاس کے بعد مسودئہ قانون آزادکشمیر اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گاتاکہ گھریلو ملازمین کوزیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے ۔ضلع مظفرآبادکے اپنے حلقہ انتخاب سے برائہ راست منتخب ہونےوالی آزادکشمیر اسمبلی کی اکلوتی رکن اسمبلی نورین عارف کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر کے تینوں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ہوم بیسڈورکرز کی مصنوعات کیلئے سیل سنٹرز قائم کر دئیے گئے ہیںاور خواہشمند مستحق خواتین کیلئے مفت ایک سالہ سرٹیفکیٹ کورس اور دوسالہ ڈپلومہ مفت کورسز ایمبرایڈری ، سلائی کڑھائی ، ٹیلرنگ ، فیشن ڈیزائرنگ اور کشمیری مصنوعات کی تیاری کے شروع کروائے جار ہے ہیں اور کرونا وائرس کی عالمی وباءکی وجہ سے آزادکشمیر بھر میں خواتین کیلئے قائم کردہ پروڈکیشن سینٹر بھی فی الوقت التواءکا شکار ہوئے ہیں ۔میری خواہش اور کوشش ہے کہ گھریلو خواتین کی تیارکردہ مصنوعات کی فروخت کی سہولت سے ان کی معاشی حالت بہتر بنا کر کاریگروں کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے جلد ہوم بیسڈورکرز ایکٹ کی اسمبلی سے منظوری سے بھی انہیں وہ حقوق مل جائینگے جو دیگر مزدور طبقے کو مل رہے ہیں جن میں ان کی رجسٹریشن آجر اور اجیر کے درمیان معاہدہ ، مزدور کے برابر تنخواہ ، ہیلتھ اینڈ سیفٹی اور سوشل سیکورٹی سمیت یونین سازی کا حق بھی مل جائے تاکہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو کر ملکی معیشت کی ترقی و بہتری میں اپنا کلیدی کردارادا کر سکیں اور آزاد خطہ کو ایک ماڈل اسٹیٹ بنانے کا میرا خواب بھی پورا ہو سکے ۔ جس میں خواتین کا استحصال نہ ہو اور وہ ملکی معیشت میں بغیر کسی خوف اور استحصال کے آزادانہ طور پر مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردارہنسی خوشی ادا کر سکیں ۔
اس میں شک نہیں کہ محکمہ سماجی بہبود و ترقی نسواں آزادکشمیر کے یہ اقدامات لائق تحسین ہیں مگر آزادکشمیر میں سندھ کی طرح ہوم بیسڈور کرز کے قانون کا نفاذ جہاں ہوم بیسڈورکرز کے تحفظ کیلئے ضروری ہے وہاں محکمہ سماجی بہبود ، محکمہ لیبر اور محکمہ پولیس میں ان کی باقاعدہ رجسٹریشن بھی ضروری ہونی چاہئے تاکہ معاشرے میں اس طبقے کے ساتھ ہونےوالی ناانصافیوں ، زیادتیوں اور معاشرتی خرابیوں سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے آئے روز کے رونما ہونےوالے دلخراش واقعات کا بھی کافی حد تک سدباب ممکن ہو سکے اور آجر اور اجیر کو اپنے حقوق و فرائض کا بھی علم ہو سکے ۔ اس سلسلے میں گھریلو کام کاج کرنےوالی متعدد خواتین ، مرد حضرات سے رابطہ کرنے پرجو افسوسناک معلومات اخذ کی گئی ہیں ان کے مطابق گھریلو ملازمین کا کم از کم معاضہ 8 گھنٹے کا ایک مزدور کی مزدوری کے برابر ضرور ہونا چاہئے اورگھنٹوں کے حساب سے آجر اور اجیر کے درمیان تحریری معاہدہ اور معاضے کی ادائیگی بذریعہ بینک اکونٹ ہونی چاہئے تاکہ آجر اور اجیر بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہو کر ملکی معیشت کی مضبوطی میں اضافے اور اپنے اپنے حقوق بھی قانون کے مطابق حاصل کر سکیں اور خلاف ورزی کے مرتکب آجر یا اجیر قانون کے مطابق سزا اورجزا کے مستحق بھی ٹھہریں ۔ اس سے ملکی معیشت کی مضبوطی میں بھی وہ اپنا مثبت کردارادا کر سکیں گے ۔ہوم بیسڈور کرز کا اظہار ہے کہ ہم معاشرے کی ایسی مخلوق ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ و متعلقہ اداروں نے ہمیں کسی کھاتے میں نہیں رکھا ہواہے حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ نادرا کے ڈیٹابیس میں اس طبقے کیلئے بھی الگ سے ایک خانہ (کالم)بنادیا جائے تو پورے ملک میں اس طبقے کا ڈیٹا بغیر کسی اضافی بجٹ کے اکٹھا ہونے سے ایک تو انہیں بھی اس ملک اور معاشرے کا حصہ ہونے کا اور حکومت سمیت متعلقہ ادارے اور ہمارے مالکان کو بھی احساس ہو گا اور پھر قانون سازی اور اس پر عملدرآمد سے بھی اس طبقے کو معاشرے کا مفید شہری اور ملکی معیشت کی مضبوطی میں وہ تحفظ حاصل ہونے کے بعد اپنا بہتر اور مثبت کردار ادا بھی کر سکیں گے جبکہ معاشرتی موجودہ قباحتوں ، غیر انسانی سلوک ،جنسی تشدد کی روک تھام سے پاکستان کا مثبت چہرہ بھی دنیا کے سامنے آسکے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.