انصاف اور قانون

0

تحریر سید ضیاءالرحمن

بلال خان کوئٹہ کا رھائشی تھا  جو نئی جوانی کی أمید لے کر اپنے مستقبل کا سوچ لئے اپنی زندگی خوشی سے گزار رھا تھا اور اپنے گھر کا لاڈلا اور انتہائی خوش مزاج انسان تھا معاشرے کے رھن سہن کے ساتھ ساتھ وہ اپنے والد کا ہاتھ  بٹانے کے لئے اس کے کاروبار میں ساتھ دیا کرتا لیکن اسکو کیا پتہ تھا کہ وہ وحشی اور ظالم درندوں کے ہاتھوں چڑھ جائے گا اور اتنی بے دردی اور بے رحمی سے اسکا قتل ھوگا۔

 ایک ماں سے اسکا لخت جگر اور ایک بہن سے اسکا بھائی چین لیا جائیگا لیکن افسوس صد افسوس کہ یہاں پر قانون کیوں اتنا کمزور ھے یہاں پر ہر وقت اکثر با اثر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے جو چاھے وہ قانون کو روند کر قانون اور انصاف کی دھجیاں ھوا میں اڑاتے ھیں تاریخ کو دوہرایاجائے تو شاہد ہی ایسا ظلم ھوا ہو اتنی بربریت اور ظلم ایک انسان سوچ بھی نھیں سکتا چند عرصہ پہلے کوئٹہ کے ایک معصوم نوجوان غوث اللہ کے گھر ماتم برپا تھا

اسکاگھرانہ ابھی تک انصاف کا منتظر ھے اور آج بلال خان کے گھرمیں جو غم ھے اس غم کا احساس ھر انسانیت رکھنے والے سوچ کے انسان اس درد اور غم کااحساس بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور یہاں کے باسیوں کے جزبات بہت بری طرح مجروح ھوئےہیں

اب خوف اور ڈر اس بات کا ھے کہ کہی پھر سے نفرت کی ھوا اور تعصب کا بیج نہ بویا جائے جس سے بعد میں پچتھانے کے سوا کچھ حاصل نہ ھوگا جب یہ ظلم اور بربریت ھوئی تو ھزارہ کمیونٹی کے مذھبی اور قومی سربراہان کو چاہئے تھا کہ وہ  اسی وقت اس واقعے کی شدید الفاذ میں مذمت کرتے اور ملزمان کو خود ھی قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں انکی گرفتاری کرواتے

اس بات کا ڈر اور خوف ظاہر کیا جارھا تھا کہ انہوں نے کیوں واقعے کو دیکھنے کے بعد بھی کوئی کردار ادا نھیں کیا پورے بلوچستان میں دیکھا گیا کہ ہرمکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور ہرقوم سے تعلق رکھنے والوں کے جزبات ابھر آئیں ہیں

خدارا اس نفرت کی آگ کوکسی نہ کسی طریقے سے بجھانا ھوگا ورنہ بہت دیرھو جائیگی ایسا نہ ھو کہ پھر سے کوئٹہ شھر ھزارہ کمیونٹی کے لئے ایک عذاب نہ بن جائے قانون کو جلد سے جلد بلال خان کے گھرانے کو انصاف فراھم کرنا ھوگا تب ھی جا کر اس مسئلے کاسدباب ھو پائے گا اور بلوچستان بلخصوص کوئٹہ شھر میں نفرت کی اس آگ کو بجھانے میں بہت زیادہ پیشرفت ھوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.